اقوام متحدہ کی غریب ملکوں کے قرضوں میں 30فیصد کمی کی تجویز

پیرس: اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے قرضوں میں 30 فیصد کمی کی تجویز پیش کی ہے۔ بھارت میں جی 20کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل پیش کی گئی۔

اس تجویز کے مطابق مذکورہ ممالک میں دنیا کے غریب افراد کی 40فیصد تعداد رہتی ہے اور انہیں قرضوں کے ادائیگی کے پیش نظرعوام کو ضروری خدمات کی فراہمی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان ممالک میں لبنان، سری لنکا، گھانا، سرینام، پاکستان، زیمبیا، بیلاروس، بیلیز، ارجنٹائن، تیونس، ایتھوپیا، تاجکستان، ایل سلواڈور، موزمبیق،نائیجیریا اور دیگر شامل ہیں۔

یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر آخم سٹینر نے بتایا کہ یہ ممالک قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہیں اور فنانسنگ میں بھی کمی کا سامنا ہے، یہ کورونا وبا کے اقتصادی اثرات، غربت اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

اب وقت ہے کہ امیر اور غریب ممالک کے درمیان گہری ہوتی خلیج کو پاٹ دیا جائے اور عالمی منظرنامہ تبدیل کیا جائے اور قرضوں کا ایسا نظام بنایا جائے جو کورونا وبا کے بعد ہماری پیچیدہ اور باہم مربوط دنیا میں بامقصد اور موزوں ہو۔