اریحا مہاجر کیمپ پر اسرائیل کا حملہ،3 فلسطینی شہید

مقبوضہ بیت المقدس: قابض اسرائیلی فوج نے فلسطین کے علاقے غرب اردن میں اریحا کے مقام پر واقع مہاجر کیمپ پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران3 فلسطینی شہریوں کو شہید کردیا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے اریحا میں عقبہ جار کیمپ پر چھاپے کے دوران گولیاں مار کر دو فلسطینیوں کو شہید کیا۔

ایک فلسطینی کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا اور کچھ دیر بعد اسرائیلی فوج نے اس کی شہادت کا اعلان کردیا۔ زخمی ہونے کے بعد وہ کئی گھنٹے سڑک پرتڑپتا رہا مگر اسرائیلی قابض فوج نے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے زخمی کو طبی امداد فراہم کرنے اور اسے ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی۔

اسرائیلی افواج نے اریحا میں عقبہ جبر کیمپ پر اچانک چھاپہ مارا۔ قابض فوج نے ایک مکان کو گھیرے میں لے لیا اور اس کے اندر موجود لوگوں سے باہر آنے کو کہا گیا۔

اسرائیلی وزیر سلامتی امور ایتمار بن گویر نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے چند ہفتے قبل ایک فلسطینی کو گرفتار کیا ہے جو میرے قتل کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

مشتبہ شخص نے وزیر کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں اور پڑوسی ملک کے دہشت گرد عناصر سے اس کام کے عوض رقم حاصل کی۔ پڑوسی ملک کی شناخت نہیں بتائی گئی۔

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے اسرائیلی کنیسٹ میں فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کے نام نہاد کالے قانون کی منظوری کی شدید مذمت کی ہے۔

حماس نے اسرائیلی کنیسٹ میں ہونے والی اس مذموم پیش رفت پراپنے رد عمل میں کہا ہے کہ قیدیوں کو سزائے موت دینے کا قانون منظور کرنا فلسطینیوں کے قتل عام کی سوچی سمجھی اسرائیلی سازش ہے۔بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی قانون غاصب صہیونی ریاست کا فلسطینیوں کے خلاف جرائم کا نیا حربہ ہے۔

اسرائیلی دشمن ریاست فلسطینیوں کو وحشیانہ قوانین کی آڑ میں خوف زدہ کرنے اور سزائے موت کے مذموم ہتھکنڈے کی منظوری کے ذریعے ظلم وجبر کی نئی مثال قائم کررہی ہے، مگر فلسطینی قوم آزادی کی تحریک کی راہ میں اس طرح کے مکروہ ہتھکنڈوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔